کہاں لے جاوں خود کو کہاں چھپاوں خود کو
کہ ہر اک نظر دے رہی صدا کہ تو یہیں ہے یہیں کہیں ہے
بن کے پتیاں بکھر گئی زندگی خوشبو ہے چار سو
ہر اک رنگ پکار رہا ہے کہ تو یہیں ہے یہیں کہیں ہے
مقدر کی سیاہیاں ہیں یہ انتظار کی گھڑیاں
ہر اک سانس پکار رہی ہے تو یہیں ہے یہیں کہیں ہے
سناٹا ہی سناٹا میری روح کا
اور خاموشی پکار رہی ہے کہ تو یہیں ہے یہیں کہیں ہے
#MH
تم اپنے خوابوں کی دنیا بساتے رہے
ہم آینوں کو بھی جھٹلاتے رہے
تم مسکرائے تو قافلے ہمنوا ہوے
ہم اپنے ہی قدموں کےنشاں مٹاتےرہے
اک ناز تھا دنیا کو تم پر
اک ہم ہیں
خود کو بھی خود س ے چھپاتے رہے
ملیحہ
Continue with Social Accounts
Facebook Googleor already have account Login Here